صحیح بخاری حدیث ۳۰ - مسلمان سے لڑائی کی سخت وعید
دو مسلمانوں کی لڑائی کی حدیث: قاتل اور مقتول دونوں کیوں؟
صحیح بخاری : ۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قُلْتُ : أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ " .
احنف بن قیس روایت:
میں اس شخص (علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے کو چلا۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے۔ پوچھا کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا، اس شخص (علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں۔ابوبکرہ نے کہا اپنے گھر کو لوٹ جاؤ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قاتل تو خیر (ضرور دوزخی ہونا چاہیے) مقتول کیوں؟ فرمایا ” وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا۔ “ (موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا دل کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ہوا)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں احنف بن قیس کا واقعہ ہے کہ وہ ایک طرف کی مدد کے لیے جا رہے تھے۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی کہ جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ پوچھا گیا کہ قاتل تو سمجھ آتا ہے، مقتول کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کی حرص رکھتا تھا۔ اس حدیث میں مسلمانوں کی باہمی لڑائی، قتل کی نیت، فتنہ سے بچنا اور خونریزی کی سختی جیسے موضوعات بیان ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کے درمیان خونریزی بہت سنگین معاملہ ہے۔
- صرف عمل ہی نہیں، قتل کی پکی نیت بھی خطرناک ہے۔
- فتنہ کے وقت جلد بازی میں کسی لڑائی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
- دینی نصیحت سن کر واپس آ جانا عقل مندی ہے۔
