صحیح بخاری حدیث ۳۶۰۱ - فتنہ میں خاموش رہنا
فتنہ کے وقت خاموشی اور پناہ اختیار کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۶۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۰۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي وَمَنْ يُشْرِفْ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ وَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فتنوں کا دور جب آئے گا تو اس میں بیٹھنے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس میں جھانکے گا فتنہ بھی اسے اچک لے گا اور اس وقت جسے جہاں بھی پناہ مل جائے بس وہیں پناہ پکڑ لے تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۶۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ فتنے ہوں گے۔ اس وقت بیٹھنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ جو شخص فتنہ کی طرف جھانکے گا، فتنہ اسے اپنی طرف کھینچ لے گا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جسے کوئی پناہ یا بچاؤ کی جگہ مل جائے وہ اسے اختیار کر لے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع فتنہ سے بچنا، جلد بازی نہ کرنا، اور دین کی حفاظت ہے۔ روایت کا پیغام صاف ہے کہ فتنوں میں حصہ لینے، بھاگ دوڑ کرنے اور تجسس سے بچنا چاہیے۔ یہاں مراد وہ حالات ہیں جن میں فتنہ آدمی کے دین اور سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنہ کے وقت غیر ضروری حرکت اور دوڑ دھوپ سے بچنا چاہیے۔
- فتنہ کو دیکھنے اور اس میں جھانکنے سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔
- محفوظ پناہ ملے تو اسے اختیار کرنا بہتر ہے۔
