صحیح بخاری حدیث ۳۶۰۲ - عصر نماز چھوڑنے کا نقصان
عصر نماز کی اہمیت اور فتنوں سے بچنے کی نصیحت
صحیح بخاری : ۳۶۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۰۲
وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا إِلَّا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ يَزِيدُ مِنَ الصَّلَاةِ صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
ابوبکر روایت:
نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس سے وہ چھوٹ جائے گویا اس کا گھربار سب برباد ہو گئے۔ (اور وہ عصر کی نماز ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۰۲ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلی فتنوں والی حدیث کی طرح مضمون آیا ہے، مگر اس میں ایک اہم اضافہ بھی بیان ہوا ہے۔ راوی کے مطابق نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس سے وہ چھوٹ جائے تو گویا اس کا گھر بار اور مال سب برباد ہو گئے، اور وہ عصر کی نماز ہے۔ اس روایت کا موضوع دو حصوں میں سمجھ آتا ہے: فتنوں سے بچنے کی نصیحت اور عصر نماز کی خاص اہمیت۔ فتنوں کے بارے میں پیغام یہ ہے کہ آدمی غیر ضروری طور پر ان میں نہ پڑے اور اگر پناہ ملے تو اسے اختیار کرے۔ عصر کے بارے میں متن صاف بتاتا ہے کہ اس نماز کا چھوٹ جانا بہت بڑا نقصان ہے۔ اس لیے اس حدیث سے نماز، خاص طور پر عصر کی پابندی کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر نماز چھوٹنا بہت بڑے نقصان کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- فتنوں کے وقت احتیاط اور پناہ اختیار کرنے کی ہدایت ملتی ہے۔
- نماز کی پابندی دین کی حفاظت کا اہم حصہ ہے۔
