صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۲ - فتنہ دیکھ کر دور رہنا

فتنے کی طرف نہ جھانکو: بچاؤ اور پناہ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۲

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ اگر کوئی ان کی طرف دور سے بھی جھانک کر دیکھے گا تو وہ اسے بھی سمیٹ لیں گے ایسے وقت جو کوئی اس سے کوئی پناہ کی جگہ پا لے اسے اس کی پناہ لے لینی چاہئیے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۲ کا خلاصہ

یہ حدیث بھی فتنوں کے وقت احتیاط پر ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایسے فتنے برپا ہوں گے جن میں بیٹھنے والا کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ پھر فرمایا کہ جو شخص ان فتنوں کی طرف دور سے بھی جھانکے گا، وہ اسے بھی سمیٹ لیں گے۔ اس وقت جسے کوئی پناہ یا بچاؤ کی جگہ ملے وہ اس کی پناہ لے۔ اس روایت میں بار بار حرکت کی سطح کا ذکر ہے، جس سے سمجھ آتا ہے کہ فتنہ بڑھانے والی شمولیت سے بچنا چاہیے۔ حدیث فتنہ، پناہ، احتیاط اور خود کو محفوظ رکھنے کی واضح تعلیم دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتنہ دیکھنے کا شوق بھی انسان کو اس میں ڈال سکتا ہے۔
  • فتنوں میں دوڑنے کے بجائے رکنا اور بچنا بہتر بتایا گیا ہے۔
  • پناہ یا محفوظ راستہ ملے تو اسے اختیار کرنا چاہیے۔
  • ہر حرکت فائدہ مند نہیں، بعض وقت دور رہنا بہتر ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں