صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۱ - فتنوں سے بچنے کا طریقہ
فتنوں میں جلدی نہ کرو: پناہ اختیار کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح قَالَ إِبْرَاهِيمُ ،وَحَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْهَا مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عنقریب ایسے فتنے برپا ہوں گے جن میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا ان میں چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا ان میں دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، جو دور سے ان کی طرف جھانک کر بھی دیکھے گا تو وہ ان کو بھی سمیٹ لیں گے۔ اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ مل جائے یا بچاؤ کا مقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع فتنوں سے بچنا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ عنقریب فتنے ہوں گے جن میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ جو شخص دور سے بھی ان کی طرف دیکھے گا، فتنے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ پھر فرمایا کہ جسے پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام ملے وہ اس میں چلا جائے۔ حدیث کا صاف مطلب ہے کہ فتنہ دیکھ کر اس کی طرف دوڑنا خطرناک ہے۔ فتنوں سے بچاؤ، پناہ اختیار کرنا، اور غیر ضروری شمولیت سے دور رہنا اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنوں میں غیر ضروری سرگرمی سے بچنا بہتر ہے۔
- فتنے کو دور سے دیکھنے کی خواہش بھی انسان کو اس میں کھینچ سکتی ہے۔
- بچاؤ کی جگہ ملے تو اس میں پناہ لینا چاہیے۔
- حدیث فتنوں میں سستی نہیں بلکہ احتیاط کی تعلیم دیتی ہے۔
