صحیح بخاری حدیث ۷۱۲۱ - قیامت کی نشانیاں
قیامت کی نشانیاں: فتنہ، قتل، مال اور اچانک وقت
صحیح بخاری : ۷۱۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۲۱
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ ، دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ ، وَحَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَحَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ ، وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ : وَهُوَ الْقَتْلُ ، وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ وَحَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ ، فَيَقُولَ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ : لَا أَرَبَ لِي بِهِ ، وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ ، وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ ، فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ ، وَحَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ ، يَعْنِي آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا ، فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ ، وَلَا يَطْوِيَانِهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يُلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أُكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تین دجال۔ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہو گا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔پس جب وہ اس طرح طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہو جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۲۱ کا خلاصہ
یہ حدیث قیامت کی کئی نشانیوں کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دو بڑی جماعتوں کی جنگ، بہت سے جھوٹے دجالوں، علم کے اٹھ جانے، زلزلوں کی کثرت، زمانے کے قریب ہونے، فتنوں کے ظاہر ہونے، ہرج یعنی قتل کے بڑھنے، مال کی کثرت، بڑی عمارتوں پر فخر، قبر والے کی جگہ ہونے کی خواہش، سورج کے مغرب سے نکلنے اور قیامت کے اچانک قائم ہونے کا ذکر فرمایا۔ متن میں کئی روزمرہ مثالیں بھی ہیں، جیسے کپڑا بیچنے سے پہلے، دودھ پینے سے پہلے، حوض سے پانی پلانے سے پہلے اور لقمہ کھانے سے پہلے قیامت آ جائے گی۔ یہ حدیث قیامت کی نشانیاں، آخری زمانہ، فتنہ اور سورج مغرب سے نکلنے کے موضوعات پر نہایت جامع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت سے پہلے فتنوں اور قتل کے بڑھنے کا ذکر ہے۔
- علم کے اٹھ جانے اور جھوٹے دعویداروں کے ظاہر ہونے کی خبر دی گئی ہے۔
- مال کی کثرت کے باوجود صدقہ لینے والا نہ ملنے کا وقت آئے گا۔
- قیامت اچانک قائم ہو گی، اس لیے تیاری کو مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔
