صحیح بخاری حدیث ۷۱۲۲ - دجال کا فتنہ
دجال کا فتنہ اور اللہ کی قدرت
صحیح بخاری : ۷۱۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۲۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : " مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مَا سَأَلْتُهُ ، وَإِنَّهُ قَالَ لِي : مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ ، قُلْتُ : لِأَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ وَنَهَرَ مَاءٍ ، قَالَ : هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے بیان کیا، کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` دجال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا میں نے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، فرمایا کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ دجال کے بارے میں اپنے سوالات کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دجال کے بارے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے جتنا انہوں نے پوچھا، اتنا کسی نے نہیں پوچھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ تمہیں کیا نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع دجال کا فتنہ، اللہ کی قدرت اور ظاہری چیزوں سے مرعوب نہ ہونا ہے۔ متن میں دجال کی روٹی اور پانی کا ذکر لوگوں کی بات کے طور پر آیا ہے، جبکہ جواب اللہ کی قدرت پر اعتماد دلاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دجال کے معاملے میں خوف کو اللہ کی قدرت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- ظاہری اسباب انسان کو مرعوب کر سکتے ہیں، مگر اللہ کے لیے سب آسان ہے۔
- مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سوال کر کے وضاحت حاصل کی۔
- حدیث میں دجال کی چیزوں کو اللہ کے مقابلے میں معمولی بتایا گیا ہے۔
