صحیح بخاری حدیث ۷۱۳۲ - دجال کے سامنے مومن کی ثابت قدمی
دجال کے سامنے مومن کی ثابت قدمی اور مدینہ کی حفاظت
صحیح بخاری : ۷۱۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۳۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيمَا يُحَدِّثُنَا بِهِ أَنَّهُ ، قَالَ : " يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ ، فَيَنْزِلُ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ ، أَوْ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ ، فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ ؟ ، فَيَقُولُونَ : لَا ، فَيَقْتُلُهُ ، ثُمَّ يُحْيِيهِ ، فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ ، فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ " .
ابوسعید روایت:
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہو گا کہ مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہو۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور والی زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا اور وہ افضل ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ اور اس سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا۔اس پر دجال کہے گا کیا تم دیکھتے ہو اگر میں اسے قتل کر دوں اور پھر زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے معاملہ میں شک و شبہ باقی رہے گا؟ اس کے پاس والے لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اس صاحب کو قتل کر دے گا اور پھر اسے زندہ کر دے گا۔ اب وہ صاحب کہیں گے کہ واللہ! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی۔ اس پر دجال پھر انہیں قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے مار نہ سکے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۱۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں دجال کے بارے میں ایک لمبا واقعہ بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ دجال آئے گا، مگر مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہونا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ وہ مدینہ کے قریب شور والی زمین میں ٹھہرے گا۔ پھر ایک مومن شخص اس کے پاس جائے گا اور کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں خبر دی تھی۔ دجال اسے قتل کرے گا اور پھر زندہ کرے گا، مگر وہ شخص کہے گا کہ آج مجھے تیرے بارے میں پہلے سے زیادہ بصیرت حاصل ہوئی ہے۔ پھر دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا، مگر اس پر قابو نہ پا سکے گا۔ یہ حدیث دجال کا فتنہ، مدینہ کی حفاظت، اور ایمان پر ثابت قدمی کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دجال مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
- مومن شخص دجال کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خبر کے مطابق پہچانے گا۔
- آزمائش کے بعد اس مومن کی بصیرت کم نہیں بلکہ بڑھتی دکھائی گئی ہے۔
