صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۸ - سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رونے کا واقعہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج: رونے کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی
صحیح مسلم : ۲۹۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۳۸
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عبدَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَبْكِي " ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى آخِرِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ ،
جابر روایت:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اسی مضمون کی جو اوپر بیان ہوا لیکن اس میں «دَخَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى عَائِشَةَ» سے اوپر کے الفاظ نہیں ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۸ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون میں آئی ہے جو پچھلی تفصیلی روایت میں بیان ہوا۔ فرق یہ ہے کہ اس میں شروع کی تفصیل نہیں، بلکہ بیان اس جگہ سے شروع ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہ رو رہی تھیں۔ پھر آگے وہی مضمون آتا ہے کہ حیض کی وجہ سے وہ طواف نہ کر سکیں، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں تسلی دی، حج کے اعمال جاری رکھنے کی رہنمائی دی، اور بعد میں پاک ہونے پر طواف اور سعی کا ذکر آیا۔ اس روایت میں اصل توجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پریشانی اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی عملی رہنمائی پر ہے۔ یہ حائضہ عورت کا حج اور تنعیم سے عمرہ کے موضوع کی ایک مختصر روایت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی حالت کی وجہ سے پریشان تھیں۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے پاس جا کر وجہ پوچھی۔
- حیض کے باوجود حج کے معاملے میں رہنمائی دی گئی۔
- یہ روایت پچھلی تفصیل کا مختصر حصہ نقل کرتی ہے۔
