صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۹ - رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نرمی اور تنعیم سے عمرہ

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نرمی: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تنعیم سے عمرہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۳۹

وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوِيَتِ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ ، فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ " ، قَالَ مَطَرٌ : قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : فَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ كَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

جابر روایت:

سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں احرام عمرہ کا باندھا تھا اور حدیث روایت ہے مانند حدیث لیث کے اور اتنا زائد بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نرم دل تھے، جب ان سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کچھ فرمائش کرتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مان لیتے تھے (یہ کمال اخلاق تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ اپنی بیبیوں کی خاطر داری فرماتے تھے اور ان کی فرمائشیں پوری کر دیتے تھے جب تک اللہ پاک کی نافرمانی نہ ہو اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خاطر تو سب سے زیادہ تھی اللہ پاک ان کا درجہ بلند کرے اعلیٰ علیین میں اور ان سے راضی ہو اور ہم کو ان کی کفش برداری میں قبول فرمائے آمین یا رب العالمین) غرض بھیج دیا ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ اور وہ تنعیم سے عمرہ لائیں مطر جو راوی ہیں انہوں نے ابوالزبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کرتی تھیں تو ویسا ہی کرتی تھیں جیسا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں کیا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے حج میں عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ پھر پچھلی روایت جیسا مضمون آیا، اور اس میں ایک اضافہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نرم مزاج تھے؛ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کسی چیز کی خواہش کرتیں تو آپ صلى الله عليه وسلم ان کی بات مان لیتے۔ اسی وجہ سے آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھیجا، پھر انہوں نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا۔ روایت کے آخر میں ابو الزبیر کا قول ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب حج کرتیں تو اسی طرح کرتیں جیسے نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ یہ حدیث نرمی، حسن سلوک، اور تنعیم سے عمرہ کے موضوع کو جوڑتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے نرم مزاج ہونے کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش پر انہیں تنعیم سے عمرہ کرایا گیا۔
  • عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو ساتھ بھیجا گیا۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بعد کے حج میں بھی اسی عمل کو اپناتی تھیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں