صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۰ - حج تمتع، سعی اور قربانی میں شرکت
حج تمتع کی حدیث: احرام کھولنا، سعی اور قربانی میں سات افراد
صحیح مسلم : ۲۹۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۴۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ " ، قَالَ : قُلْنَا : أَيُّ الْحِلِّ ؟ ، قَالَ : " الْحِلُّ كُلُّهُ ؟ " ، قَالَ : فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ " .
جابر روایت:
ہم نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا لبیک پکارتے ہوئے ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے، پھر جب مکہ آئے طواف کیا بیت اللہ کا اور سعی کی صفا اور مروہ کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے اور حلال ہو جائے۔“ ہم نے کہا: کیسا حلال ہونا؟ انہوں نے کہا: ”پورا۔“پھر ہم عورتوں کے پاس آئے (یعنی جماع کیا) اور کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی پھر جب آٹھویں تاریخ ہوئی۔ حج کی لبیک پکاری اور کفایت کر گئی ہم کو سعی صفا اور مروہ کی جو کہ پہلے کی تھی اور حکم کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شریک ہو جائیں اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ حج کی تلبیہ کہتے ہوئے نکلے، اور ان کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔ مکہ پہنچ کر انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دے اور حلال ہو جائے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیسا حلال ہونا؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: پورا۔ پھر انہوں نے کپڑے پہنے، خوشبو لگائی، اور جب آٹھویں تاریخ آئی تو حج کی تلبیہ کہی۔ پہلے والی صفا مروہ کی سعی ان کے لیے کافی ہوئی۔ آخر میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اونٹ اور گائے میں سات سات آدمیوں کو شریک ہونے کا حکم دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہدی نہ رکھنے والوں کو احرام کھولنے کا حکم دیا گیا۔
- مکہ پہنچ کر طواف اور صفا مروہ کی سعی کی گئی۔
- آٹھویں ذوالحجہ کو دوبارہ حج کی تلبیہ کہی گئی۔
- اونٹ اور گائے میں سات سات افراد کی شرکت کا حکم بیان ہوا۔
