صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۱ - منیٰ جاتے وقت احرام کا حکم
منیٰ کے لیے احرام باندھنے کی حدیث: حج کا سادہ طریقہ
صحیح مسلم : ۲۹۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۴۱
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ نُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى " ، قَالَ : فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْأَبْطَحِ .
جابر بن عبداللہ روایت:
حکم کیا ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہم نے احرام کھول ڈالا کہ جب ہم منیٰ کو چلیں (یعنی آٹھویں تاریخ) تو احرام باندھ لیں تو لبیک پکاری ہم نے حج کی ابطح سے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع احرام اور منیٰ کی روانگی ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ جب صحابہ نے احرام کھول دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جب منیٰ کی طرف جائیں تو دوبارہ احرام باندھیں۔ پھر صحابہ نے ابطح سے حج کا تلبیہ پکارا۔ اس سے حج کی ترتیب صاف سمجھ آتی ہے کہ ہر عمل اپنے وقت پر کیا گیا۔ پہلے احرام کھولا گیا، پھر منیٰ جانے کے وقت حج کے لیے احرام باندھا گیا۔ جو لوگ احرام حج، منیٰ کا احرام، ابطح سے تلبیہ، اور حج کا طریقہ تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ عبادت میں اپنی پسند نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب دیکھی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کھولنے کے بعد منیٰ جاتے وقت دوبارہ حج کا احرام باندھا گیا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ابطح سے تلبیہ پکارا۔
- حج کے اعمال میں وقت اور ترتیب کا خیال رکھا گیا۔
- عبادت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کی پیروی اصل رہنمائی ہے۔
