صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۵ - حج تمتع اور ہدی کا حکم
حج تمتع کا طریقہ: طواف، سعی اور احرام کھولنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۹۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۴۵
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ مَكَّةَ مُتَمَتِّعًا بِعُمْرَةٍ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِأَرْبَعَةِ أَيَّامٍ ، فَقَالَ النَّاسُ : تَصِيرُ حَجَّتُكَ الْآنَ مَكِّيَّةً ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَاسْتَفْتَيْتُهُ ، فَقَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ سَاقَ الْهَدْيَ مَعَهُ ، وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ فَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَقَصِّرُوا وَأَقِيمُوا حَلَالًا ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ ، وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً " ، قَالُوا : كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ ؟ ، قَالَ : " افْعَلُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ ، فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ ، لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَفَعَلُوا " .
جابر بن عبداللہ انصاری روایت:
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے حج کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس سال کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی تھی (یعنی حجتہ الوداع میں اس لیے کہ ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج کیا ہے) اور بعض لوگوں نے صرف حج مفرد کا احرام باندھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم احرام کھول ڈالو اور طواف کرو بیت اللہ کا اور سعی کرو صفا اور مروہ کی اور بال کم کرا لو اور حلال رہو پھر جب ترویہ کا دن ہو (یعنی آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی) تو لبیک پکارو حج کی اور تم جو احرام لے کر آئے ہو اس کو متعہ کر ڈالو۔“ (یعنی اگرچہ وہ احرام حج کا ہے مگر عمرہ کر کے کھول لو اور پھر حج کر لینا تو یہ متعہ ہو جائے گا) لوگوں نے عرض کی کہ ہم کیونکر اسے متعہ کریں۔ حالانکہ ہم نے نام لیا ہے حج کا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی کرو جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس لیے کہ میں اگر ہدی کو ساتھ نہ لاتا تو میں بھی ویسا ہی کرتا جیسا تم کو حکم دیتا ہوں مگر یہ کہ میرا احرام کھل نہیں سکتا جب تک کہ قربانی اپنے محل تک نہ پہنچ لے۔“ (یعنی ذبح نہ ہو لے) پھر لوگوں نے کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع حج تمتع کا عملی طریقہ ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حج مفرد کا احرام باندھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ احرام کھولیں، بیت اللہ کا طواف کریں، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کریں، بال کم کرائیں اور حلال رہیں۔ پھر جب یوم ترویہ آئے تو حج کا تلبیہ کہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ہم اسے متعہ کیسے بنائیں جبکہ ہم نے حج کا نام لیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو میں حکم دیتا ہوں وہی کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ہدی ساتھ نہ لاتا تو میں بھی یہی کرتا، لیکن میری حلالی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ہدی اپنے محل کو نہ پہنچ جائے۔ یہ روایت حج تمتع، صفا مروہ کی سعی، تقصیر، اور ہدی کے حکم کو ایک ساتھ واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طواف، سعی اور بال کم کرانے کے بعد احرام کھولنے کا حکم دیا گیا۔
- یوم ترویہ پر دوبارہ حج کا احرام باندھنے کی ہدایت دی گئی۔
- ہدی ساتھ ہو تو احرام کھولنے کا معاملہ مختلف رہا۔
- صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق عمل کیا۔
