صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۶ - ہدی کے ساتھ احرام کھولنے کا مسئلہ
ہدی اور احرام کی حدیث: حج کو عمرہ بنانے کا حکم
صحیح مسلم : ۲۹۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۴۶
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ ، قَالَ : وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی لبیک پکارتے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہم کو کہ ہم اس کو عمرہ کر ڈالیں اور احرام کھول لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ نہ کر سکے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حج، عمرہ اور ہدی کا مختصر بیان ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے آئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اس احرام کو عمرہ بنا دیں اور احرام کھول دیں۔ ساتھ ہی روایت میں یہ بھی بیان ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی یعنی ہدی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود عمرہ بنا کر احرام نہ کھول سکے۔ یہ بات حج تمتع کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے، لیکن حدیث میں جو بات آئی ہے اسی حد تک رکنا چاہیے: جن کے ساتھ ہدی نہ تھی، انہیں احرام کھولنے کا حکم ہوا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کی وجہ سے محرم رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کو حج کے احرام کو عمرہ بنانے کا حکم دیا گیا۔
- احرام کھولنے کا حکم ان لوگوں کے لیے بیان ہوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے تھے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کی وجہ سے احرام نہ کھول سکے۔
- ہدی حج کے احرام کے معاملے میں اثر رکھتی ہے۔
