صحیح مسلم حدیث ۲۹۲۵ - ہدی نہ ہو تو احرام کھولنے کا حکم

ہدی نہ ہو تو طواف و سعی کے بعد احرام کھولنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۲۵

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ، وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا فَقِيلَ : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ " ، قَالَ يَحْيَى : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ : أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ ،

عمرہ روایت:

میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ فرماتی تھیں ہم نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب پانچ تاریخیں ذی قعدہ کی باقی رہ گئیں اور ہم خیال حج ہی کا کرتے تھے یہاں تک کہ جب مکہ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ طواف و سعی کے بعد احرام کھول ڈالے۔ (یعنی حج کو عمرہ کر دے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر ہمارے پاس نحر کے دن (یعنی دسویں تاریخ) گائے کا گوشت آیا میں نے کہا: یہ کیا ہے؟لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے ذبح کیا ہے۔ پھر میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد سے ذکر کی (یہ قول یحییٰ کا ہے) انہوں نے کہا: تم نے خوب برابر جیسے تھی ویسے ہی روایت کی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ذی قعدہ کے آخر میں نکلیں اور ان کا خیال حج ہی کا تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا کہ جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد احرام کھول دے۔ اس سے حج کے سفر میں ہدی کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نحر کے دن ان کے پاس گائے کا گوشت آیا، اور بتایا گیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے ذبح کیا ہے۔ یہ حدیث حج، ہدی، طواف، سعی اور احرام کھولنے کے موضوعات کے لیے اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہدی نہ رکھنے والوں کے لیے طواف و سعی کے بعد احرام کھولنے کا حکم آیا۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم شروع میں حج ہی کا خیال رکھتے ہوئے نکلے تھے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کی۔
  • حج کے اعمال میں طواف اور صفا مروہ کی سعی کا ذکر واضح طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں