صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۵ - سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تنعیم سے عمرہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تنعیم سے عمرہ کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۳۵

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ، قَالَتْ : فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ ، قَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي ، فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ ، قُلْتُ : لَهُ وَهَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ ؟ ، قَالَتْ : فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ " .

عائشہ روایت:

میں نے عرض کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ یا رسول اللہ! لوگ دو ثواب لے کر لوٹتے ہیں اور میں ایک لے کر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو کہ ان کو لے جاؤ تنعیم تک اور وہ مجھے لے گئے اور اپنے اونٹ پر لے گئے اور مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور میں اپنی اوڑھنی سے اپنی گردن کھول دیتی تھی اور عبدالرحمٰن (اس خیال سے کہ بے پردگی کیوں کرتی ہے) میرے پیر پر مارتے تھے، اس ڈھب سے کہ کوئی جانے اونٹ کو مارتے ہیں اور میں ان سے کہتی تھی کہ یہاں تم کسی کو دیکھتے بھی ہو (یعنی یہاں کوئی نہیں ہے اس لیے میں نے اپنا سر کھول دیا ہے) پھر فرماتی ہیں کہ میں نے احرام باندھا عمرے کا اور پھر ہم لوٹ کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حصبہ میں تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ لوگ دو اجر لے کر لوٹ رہے ہیں اور میں ایک اجر لے کر لوٹوں گی۔ اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم تک لے جائیں۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے اونٹ پر پیچھے بٹھایا۔ راستے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی اوڑھنی گردن سے ہٹا دیتیں تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ان کے پاؤں پر اس طرح مارتے جیسے اونٹ کو مار رہے ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا تم یہاں کسی کو دیکھتے ہو؟ پھر انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور واپس رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس حصبہ میں پہنچیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے ساتھ عمرہ کی خواہش ظاہر کی۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو انہیں تنعیم لے جانے کا حکم دیا۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا۔
  • واقعے میں سفر، پردے اور عمرہ کے احرام کی تفصیل آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں