صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۳ - حائضہ عورت کا حج اور عمرہ
حائضہ عورت کا حج: طواف حج اور عمرہ کے لیے کافی ہونا
صحیح مسلم : ۲۹۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۳۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ : " يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ " ، فَأَبَتْ ، فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ .
عائشہ روایت:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے احرام باندھا عمرہ کا اور آئیں اور طواف نہیں کیا تھا کہ حائضہ ہو گئیں۔ پھر سب مناسک حج ادا کیے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منٰی سے کوچ کے دن کہ ”تمہارا طواف حج اور عمرہ دونوں کو کافی ہو جائے گا۔“ انہوں نے اس بات سے اپنی خوشی ظاہر نہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کے ساتھ بھیج دیا تنعیم کو کہ بعد حج کے عمرہ لائیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حج اور عمرہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا، مگر بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے انہیں حیض آ گیا۔ پھر انہوں نے حج کا احرام باندھا اور حج کے سب مناسک ادا کیے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے منیٰ سے کوچ کے دن فرمایا کہ تمہارا طواف تمہارے حج اور عمرہ دونوں کے لیے کافی ہو جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس پر مطمئن نہ ہوئیں، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا، جہاں سے انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔ یہ حدیث حائضہ عورت کا حج، عمرہ کا احرام، طواف اور تنعیم سے عمرہ کے موضوعات پر خاص طور پر مفید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
- طواف سے پہلے حیض آنے پر انہوں نے حج کے مناسک ادا کیے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ طواف حج اور عمرہ دونوں کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
- ان کی خواہش پر انہیں تنعیم سے عمرہ کروایا گیا۔
