صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۲ - حج میں تردد کے بغیر روایت
حج کے حکم پر تردد: وہی مضمون ایک اور روایت میں
صحیح مسلم : ۲۹۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۳۲
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ " ، بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ مِنَ الْحَكَمِ فِي قَوْلِهِ : يَتَرَدَّدُونَ .
وہی مضمون ہے مگر اس میں حکم راوی کا شک مذکور نہیں تامل کے ذکر میں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۳۲ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے۔ اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ تاریخ گزرنے پر آئے، اور باقی مضمون اسی طرح ہے۔ فرق یہ بتایا گیا کہ اس روایت میں حکم راوی کے شک کا ذکر نہیں، جو پچھلی روایت میں تردد کے لفظ کے بارے میں آیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے راوی الفاظ کے بارے میں بہت احتیاط سے بات کرتے تھے۔ اصل موضوع وہی ہے: حج کے موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ایک حکم، لوگوں کا تردد، ہدی ساتھ لانے کی وجہ سے آپ صلى الله عليه وسلم کا احرام نہ کھولنا، اور یہ فرمانا کہ اگر پہلے سے معلوم ہوتا تو ہدی ساتھ نہ لاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے مضمون کی دوسری سند کے طور پر آئی ہے۔
- اس میں راوی کے شک کا ذکر نہیں کیا گیا۔
- حدیث نقل کرتے وقت الفاظ کے فرق کو محفوظ رکھا گیا۔
- حج کے احکام میں ہدی اور احرام کا تعلق واضح طور پر سامنے آتا ہے۔
