صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۰ - حجۃ الوداع میں باہمی قتل سے ممانعت
حجۃ الوداع کا پیغام: ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارو
صحیح بخاری : ۷۰۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۰
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَدِّهِ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ، ثُمَّ قَالَ : لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
جریر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ لوگوں کو خاموش کر دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع امت میں باہمی قتل سے بچاؤ ہے۔ جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ لوگوں کو خاموش کر دو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے لوگوں کو خاموش کرایا، پھر یہ اہم بات فرمائی۔ اس سے پیغام کی سنجیدگی واضح ہوتی ہے۔ حجۃ الوداع، لا ترجعوا بعدی کفارا، باہمی قتل، اور امت کا امن اس حدیث کے بنیادی موضوعات ہیں۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کو خون ریزی سے صاف اور سخت انداز میں منع فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہم دینی نصیحت سننے کے لیے خاموشی اور توجہ ضروری ہے۔
- مسلمانوں کا آپس میں قتل کرنا سخت منع ہے۔
- حجۃ الوداع میں بھی امت کو باہمی خون ریزی سے خبردار کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس تنبیہ کو بہت واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔
