صحیح مسلم حدیث ۱۲۴ - نماز اور زکوٰۃ میں فرق نہ کرنا

زکوٰۃ مال کا حق ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۴

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْر بَعْدَهُ ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ : كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ، حَتَّى يَقُولُوا ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي ، مَالَهُ ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا ، كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : فَوَاللَّهِ ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .

ابوہریرہ روایت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے لوگ جو کافر ہونے تھے وہ کافر ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ان لوگوں سے کیونکر لڑو گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”مجھ کو حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہیں۔ پھر جس نے «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہا اس نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو بچا لیا مگر کسی نے حق کے بدلے (یعنی کسی قصور کے بدلے جیسے زنا کرے یا خون کرے تو پکڑا جائے گا) پھر حساب اس کا اللہ پر ہے۔“ (اگر اس کے دل میں کفر ہوا اور ظاہر میں ڈر کے مارے مسلمان ہو گیا تو قیامت میں اللہ اس سے سمجھ لے گا۔ دنیا ظاہر پر ہے، دنیا میں اس سے کوئی مواخذہ نہ ہو گاسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو لڑوں گا اس شخص سے جو فرق کرے نماز اور زکوٰۃ میں، اس لئے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ ایک عقال روکیں گے جو دیا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو میں لڑوں گا ان سے اس کے نہ دینے پر۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم پھر وہ کچھ نہ تھا مگر میں نے یقین کیا کہ اللہ جل جلالہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے لڑائی کے لئے (یعنی ان کے دل میں یہ بات ڈال دی) تب میں نے جانا کہ حق یہی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک اہم موقع کا ذکر ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے۔ کچھ لوگوں نے زکوٰۃ روک دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ان سے قتال کیسے ہو گا جبکہ کلمہ پڑھنے والے کی جان اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں، مگر حق کے بدلے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے، اس لیے نماز اور زکوٰۃ میں فرق نہیں کیا جائے گا۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ دین میں زکوٰۃ کوئی معمولی یا اختیاری کام نہیں بلکہ فرض حق ہے۔ آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی جان لیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف حق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زکوٰۃ مال کا فرض حق ہے۔
  • نماز اور زکوٰۃ کو دین کے اہم فرائض کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
  • صحابہ کرام دینی معاملے میں دلیل اور حق کو دیکھتے تھے۔
  • کلمہ پڑھنے والے کا مال اور جان محفوظ ہے، مگر شرعی حق اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں