صحیح مسلم حدیث ۱۲۵ - لا الہ الا اللہ اور جان و مال کی حفاظت

لا الہ الا اللہ: ظاہر اسلام اور اللہ کے سپرد حساب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۵

وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، عَصَمَ مِنِّي ، مَالَهُ ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں۔ پھر جس نے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا اس نے بچا لیا مجھ سے اپنے مال اور جان کو مگر کسی حق کے بدلے اور حساب اس کا اللہ پر ہے“۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۵ کا خلاصہ

یہ حدیث کلمہ توحید کی عظمت کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں۔ پھر جس نے یہ کلمہ کہا، اس نے اپنی جان اور مال کو محفوظ کر لیا، مگر کسی حق کے بدلے۔ اس کا حساب اللہ پر ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ظاہر کے مطابق معاملہ کیا جاتا ہے۔ جو شخص کلمہ اسلام کا اقرار کرے، اس کی جان و مال کو ناحق نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ لیکن اگر کوئی شرعی حق یا جرم کا معاملہ ہو تو وہ الگ ہے۔ دلوں کا اصل حساب اللہ ہی کے پاس ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لا الہ الا اللہ اسلام کا بنیادی کلمہ ہے۔
  • کلمہ کہنے والے کی جان و مال کی حرمت ہے۔
  • دنیا میں ظاہر کے مطابق معاملہ کیا جاتا ہے۔
  • دلوں اور نیتوں کا آخری حساب اللہ کے سپرد ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں