صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۹ - باہمی قتل سے بچنے کی تنبیہ

میرے بعد کافر نہ ہو جانا: مسلمان کے خون کی حرمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۷۹

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَال : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْتَدُّوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۹ کا خلاصہ

یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور اس کا مرکزی موضوع باہمی قتل سے بچنا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔ یہ الفاظ امت کو شدید خبردار کرتے ہیں کہ آپس کی خون ریزی معمولی اختلاف نہیں بلکہ بہت خطرناک راستہ ہے۔ حدیث میں قتل کو گردن مارنے کے لفظ سے بیان کیا گیا، جس سے باہمی جنگ اور خون ریزی کی سنگینی سمجھ آتی ہے۔ اس روایت میں کسی خاص گروہ کا ذکر نہیں، اس لیے پیغام عام ہے: مسلمان دوسرے مسلمان کے خون سے بچے۔ یہ حدیث لا ترتدوا بعدی کفارا، مسلمان کا قتل، اور فتنوں میں خون ریزی کے موضوعات سے متعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمانوں کو ایک دوسرے کا خون بہانے سے سختی سے روکا گیا ہے۔
  • باہمی قتل کو دین سے دوری کے خطرناک انداز میں بیان کیا گیا۔
  • اختلاف کے وقت گردنیں مارنا نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کے خلاف ہے۔
  • حدیث عام تنبیہ ہے، اسے بلا دلیل خاص واقعے تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں