صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۸ - خون، مال اور عزت کی حرمت
خون، مال اور عزت کی حرمت: خطبہ یوم النحر کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۷۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : أَلَا تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ ؟ ، قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ الْحَرَامِ ؟ ، قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ ، وَأَعْرَاضَكُمْ ، وَأَبْشَارَكُمْ ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلِّغٍ يُبَلِّغُهُ لِمَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ فَكَانَ كَذَلِكَ ، قَالَ : لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حُرِّقَ ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ حِينَ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : أَشْرِفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالُوا : هَذَا أَبُو بَكْرَةَ يَرَاكَ ، قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ بِقَصَبَةٍ " .
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ روایت:
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا` اور ایک دوسرے شخص (حمید بن عبدالرحمٰن) سے بھی سنا جو میری نظر میں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے اچھے ہیں اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یوم النحر کو خطبہ دیا اور فرمایا ”تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟“لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ بیان کیا کہ (اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے) ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا یہ قربانی کا دن (یوم النحر) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ نے پھر پوچھا ”یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ البلدہ (مکہ مکرمہ) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟“ ہم نے کہا جی ہاں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! گواہ رہنا۔ پس میرا یہ پیغام موجود لوگ غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے پہنچانے والے اس پیغام کو اس تک پہنچائیں گے جو اس کو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو گا۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگو۔“پھر جب وہ دن آیا جب عبداللہ عمرو بن حضرمی کو جاریہ بن قدامہ نے ایک مکان میں گھیر کر جلا دیا تو جاریہ نے اپنے لشکر والوں سے کہا زرا ابوبکرہ کو تو جھانکو وہ کس خیال میں ہے۔ انہوں نے کہا یہ ابوبکرہ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں مجھ سے میری والدہ ہالہ بنت غلیظ نے کہا کہ ابوبکرہ نے کہا اگر یہ لوگ (تین جاریہ کے لشکر والے) میرے گھر میں بھی گھس آئیں اور مجھ کو مارنے لگیں تو میں ان پر ایک بانس کی چھڑی بھی نہیں چلاؤں گا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۸ کا خلاصہ
یہ حدیث مسلمانوں کی جان، مال، عزت اور جسم کی حرمت پر بہت واضح نص ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے یوم النحر کے دن لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون سا دن ہے، یہ کون سا شہر ہے، پھر فرمایا کہ تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جیسے اس دن، اس مہینے اور اس شہر کی حرمت ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ حاضر لوگ غیر حاضر لوگوں تک یہ پیغام پہنچائیں۔ آخر میں آپ صلى الله عليه وسلم نے باہمی قتل سے بھی منع فرمایا۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان کی جان، مال اور عزت معمولی چیز نہیں۔ اس میں حرمت مسلم، خطبہ حجۃ الوداع، خون کی حرمت اور پیغام پہنچانے کی ذمہ داری سب واضح ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کا خون، مال، عزت اور جسم محترم ہیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس پیغام کو حاضر لوگوں کے ذریعے غیر حاضر تک پہنچانے کا حکم دیا۔
- باہمی قتل سے امت کو سختی سے روکا گیا ہے۔
- حرمت والے دن، مہینے اور شہر کی مثال دے کر بات کو واضح کیا گیا۔
