صحیح بخاری حدیث ۴۴۰۵ - باہمی قتل سے سخت منع
باہمی قتل کی حدیث: مسلمان ایک دوسرے کی گردنیں نہ ماریں
صحیح بخاری : ۴۴۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۰۵
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِجَرِيرٍ : " اسْتَنْصِتِ النَّاسَ " ، فَقَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
جریر بن عبداللہ بجلی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جریر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا لوگوں کو خاموش کر دو، پھر فرمایا، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع باہمی قتل اور امت کے اندر خونریزی سے بچنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر پہلے لوگوں کو خاموش کرایا، پھر بہت صاف الفاظ میں فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ یہاں پیغام مختصر مگر بہت سخت ہے۔ مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی جان معمولی چیز نہیں۔ اس حدیث میں فتنہ، لڑائی، خونریزی اور مسلمانوں کے درمیان امن جیسے موضوعات آتے ہیں۔ عام سرچ میں لوگ اسے “مسلمان کو قتل کرنے کی حدیث” یا “لا ترجعوا بعدي كفارا” کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین سننے کے لیے خاموشی بھی ضروری ہے اور سن کر عمل کرنا بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی نصیحت سنتے وقت خاموشی اور توجہ ضروری ہے۔
- مسلمانوں کے درمیان خونریزی بہت سنگین معاملہ ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کو باہمی قتل سے صاف منع فرمایا۔
- اختلاف کو جان لینے تک لے جانا دینی ہدایت کے خلاف ہے۔
