صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۷ - آپس میں گردنیں مارنے سے منع
میرے بعد کافر نہ ہو جانا: باہمی قتل سے سخت ممانعت
صحیح بخاری : ۷۰۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۷۷
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
ابن عمر روایت:
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو واقد نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے،` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسلمانوں کے باہمی قتل سے بچنا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا: میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ حدیث میں دو باتیں ساتھ آئی ہیں: دین سے دوری کی خطرناک حالت اور ایک دوسرے کا خون بہانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں قتل و قتال دین کے مزاج سے بہت دور ہے۔ حدیث میں کسی خاص واقعے کی تفصیل نہیں دی گئی، بلکہ عمومی طور پر امت کو خبردار کیا گیا ہے۔ باہمی قتل کی حدیث، لا ترجعوا بعدی کفارا، اور مسلمان کی جان کی حرمت اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کو آپس میں قتل و قتال سے سختی سے روکا گیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے باہمی گردنیں مارنے کو نہایت خطرناک انداز میں بیان فرمایا۔
- دین کی ہدایت باہمی خون ریزی کے خلاف ہے۔
- امت کو اختلاف کے وقت خون ریزی سے بچنا چاہیے۔
