صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۳ - دو مسلمانوں کی تلواروں والی حدیث
دو مسلمان تلوار لے کر آمنے سامنے ہوں: قتل کے ارادے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : خَرَجْتُ بِسِلَاحِي لَيَالِيَ الْفِتْنَةِ فَاسْتَقْبَلَنِي أَبُو بَكْرَةَ ،فَقَالَ : " أَيْنَ تُرِيدُ ، قُلْتُ : أُرِيدُ نُصْرَةَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَكِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، قِيلَ : فَهَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ ، قَالَ : إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " ، قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِأَيُّوبَ ،وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ يُحَدِّثَانِي بِهِ ، فَقَالَا : إِنَّمَا رَويَ هَذَا الحَدِيثَ الْحَسَنُ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَيُونُسُ ، وَهِشَامٌ ، وَمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَرَوَاهُ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَقَالَ غُنْدَرٌ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ .
حسن بصری روایت:
میں ایک مرتبہ باہمی فسادات کے دنوں میں میں اپنے ہتھیار لگا کر نکلا تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے راستے میں ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے کی (جنگ جمل و صفین میں) مدد کرنی چاہتا ہوں، انہوں نے کہا لوٹ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کو لے کر آمنے سامنے مقابلہ پر آ جائیں تو دونوں دوزخی ہیں۔ پوچھا گیا یہ تو قاتل تھا، مقتول نے کیا کیا (کہ وہ بھی ناری ہو گیا)؟ فرمایا کہ وہ بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کئے ہوئے تھا۔حماد بن زید نے کہا کہ پھر میں نے یہ حدیث ایوب اور یونس بن عبید سے ذکر کی، میرا مقصد تھا کہ یہ دونوں بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کریں، ان دونوں نے کہا کہ اس حدیث کی روایت حسن بصری نے احنف بن قیس سے اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کی۔ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے یہی حدیث بیان کی اور مؤمل بن ہشام نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب، یونس، ہشام اور معلی بن زیاد نے امام حسن بصری سے بیان کیا، ان سے احنف بن قیس اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت معمر نے بھی ایوب سے کی ہے اور اس کی روایت بکار بن عبدالعزیز نے اپنے باپ سے کی اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور سفیان ثوری نے بھی اس حدیث کو منصور بن معتمر سے روایت کیا، پھر یہ روایت مرفوعہ نہیں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع باہمی جنگ اور قتل کا ارادہ ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فتنے کے دنوں میں ہتھیار لگا کر نکلے تو ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان سنایا کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے آئیں تو دونوں دوزخی ہیں۔ پوچھا گیا کہ قاتل تو سمجھ میں آتا ہے، مقتول کا کیا قصور؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس حدیث میں قتل، نیت، ارادہ، تلوار اور فتنہ سب ایک ساتھ آتے ہیں۔ متن کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان کے قتل کا ارادہ بھی خطرناک ہے، چاہے آدمی خود مارا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کے قتل کا ارادہ بھی سخت خطرناک ہے۔
- فتنے میں ہتھیار لے کر نکلنا انسان کو بڑے گناہ میں ڈال سکتا ہے۔
- قاتل ہی نہیں، قتل کا پختہ ارادہ رکھنے والا بھی جواب دہ ہو سکتا ہے۔
- باہمی جنگ سے بچنا حدیث کا واضح پیغام ہے۔
