صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۴ - فتنوں میں جماعت کے ساتھ رہنا
فتنوں میں کیا کرنا چاہیے؟ جماعت اور امام کے ساتھ رہنا
صحیح بخاری : ۷۰۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ ، فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَفِيهِ دَخَنٌ ، قُلْتُ : وَمَا دَخَنُهُ ؟ ، قَالَ : قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ، قُلْتُ : فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صِفْهُمْ لَنَا ، قَالَ : هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ، قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ ، قَالَ : تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ، قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ ؟ ، قَالَ : فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا ، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ " .
حذیفہ بن الیمان روایت:
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔میں نے پوچھا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن اس خیر میں کمزوری ہو گی۔ میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہو گی؟ فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے، ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے۔میں نے پوچھا کیا پھر دور خیر کے بعد دور شر آئے گا؟ فرمایا کہ ہاں جہنم کی طرف سے بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے۔ فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان (عربی) بولیں گے۔میں نے پوچھا: پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟ فرمایا کہ پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو کر خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث فتنوں میں راستہ پہچاننے کے بارے میں ہے۔ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ خیر کے بجائے شر کے بارے میں پوچھتے تھے، اس ڈر سے کہ وہ شر انہیں نہ پا لے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ خیر کے بعد شر آئے گا، پھر خیر ہو گی مگر اس میں کمزوری ہو گی، پھر ایسے داعی ہوں گے جو جہنم کے دروازوں کی طرف بلائیں گے۔ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ایسے وقت کیا حکم ہے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہو۔ اگر جماعت اور امام نہ ہوں تو تمام فرقوں سے الگ رہو، چاہے درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ موت آ جائے۔ حدیث کا اصل پیغام فتنہ، گمراہ دعوت، جماعت، امام اور الگ رہنے کی احتیاط ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنوں کے بارے میں سوال کرنا سمجھ داری کے لیے ہو تو فائدہ دے سکتا ہے۔
- گمراہ بلانے والے اپنے جیسے لوگوں اور اپنی زبان والوں میں بھی ہو سکتے ہیں۔
- مسلمانوں کی جماعت اور امام کے ساتھ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- جماعت اور امام نہ ہوں تو فتنہ انگیز گروہوں سے الگ رہنے کا حکم ہے۔
