صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۵ - غلط صف میں شامل ہونے کا خطرہ
غلط لشکر میں شامل ہونا: اپنی جان پر ظلم کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَغَيْرُهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، وَقَالَ اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ : " قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ ، فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ ، فَلَقِيتُ عِكْرِمة ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَنَهَانِي أَشَدَّ النَّهْيِ ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَأْتِي السَّهْمُ فَيُرْمَى ، فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ فَيَقْتُلُهُ ، أَوْ يَضْرِبُهُ فَيَقْتُلُهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ سورة النساء آية 97 .
ابوالاسود روایت:
اہل مدینہ کا ایک لشکر تیار کیا گیا (یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں شام والوں سے مقابلہ کرنے کے لیے) اور میرا نام اس میں لکھ دیا گیا۔ پھر میں عکرمہ سے ملا اور میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے مجھے شرکت سے سختی کے ساتھ منع کیا۔پھر کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی ہے کہ کچھ مسلمان جو مشرکین کے ساتھ رہتے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف (غزوات) میں مشرکین کی جماعت کی زیادتی کا باعث بنتے۔ پھر کوئی تیر آتا اور ان میں سے کسی کو لگ جاتا اور قتل کر دیتا یا انہیں کوئی تلوار سے قتل کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم» ”بلا شک وہ لوگ جن کو فرشتے فوت کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع غلط صف میں شامل ہونے کا خطرہ ہے۔ ابو الاسود رحمہ اللہ کا نام ایک لشکر میں لکھا گیا تو انہوں نے عکرمہ رحمہ اللہ کو بتایا۔ عکرمہ نے انہیں سختی سے منع کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سنائی کہ کچھ مسلمان مشرکین کے ساتھ رہتے تھے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے خلاف مشرکین کی جماعت کی تعداد بڑھاتے تھے۔ پھر تیر آتا یا تلوار لگتی اور ان میں سے کوئی قتل ہو جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے اس حال میں فوت کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ایسی صف میں کھڑا ہونا جو مسلمانوں کے خلاف ہو، بہت خطرناک بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلط جماعت کی تعداد بڑھانا خطرناک عمل ہو سکتا ہے۔
- مسلمان کو ایسی صف میں کھڑا ہونے سے بچنا چاہیے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے خلاف ہو۔
- بعض لوگ اپنے عمل سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بن سکتے ہیں۔
- عکرمہ رحمہ اللہ نے اس مثال سے جنگی شرکت سے سختی سے روکا۔
