صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۴ - اسلام لاؤ محفوظ ہو جاؤ
اسلام لاؤ محفوظ ہو جاؤ: اہل کتاب کو دعوت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۹۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۴۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ : يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ، فَقَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ : ذَلِكَ أُرِيدُ ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ ، فَقَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، ثُمَّ قَالَ : الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب ہم بیت المدراس کے پاس پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اے قوم یہود! اسلام لاؤ تم محفوظ ہو جاؤ گے۔ یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بھی یہی مقصد ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اور یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم آپ نے پہنچا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی فرمایا۔ اور پھر فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں جلا وطن کرتا ہوں۔ پس تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہئے کہ جلا وطن ہونے سے پہلے اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مسجد سے صحابہ کے ساتھ یہودیوں کے پاس گئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم بیت المدراس پہنچے اور انہیں آواز دی: اے قوم یہود! اسلام لاؤ، محفوظ ہو جاؤ گے۔ انہوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور آپ انہیں جلا وطن کرنا چاہتے ہیں، اس لیے جس کے پاس مال ہو وہ اسے بیچ لے۔ اس حدیث کا اصل موضوع دعوت، اتمام پیغام اور فیصلے سے پہلے واضح اعلان ہے۔ یہاں دعوت پہلے دی گئی، بات دہرائی گئی، پھر عملی حکم بتایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پہلے صاف الفاظ میں اسلام کی دعوت دی۔
- پیغام پہنچانے میں وضاحت اور تکرار کا انداز اختیار کیا گیا۔
- جلا وطنی سے پہلے مال بیچنے کی مہلت بیان کی گئی۔
