صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۳ - دین پر صبر اور جلد بازی سے بچنا
دین پر صبر کی حدیث: لیکن تم جلدی کرتے ہو
صحیح بخاری : ۶۹۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۴۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَقُلْنَا : " أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا ، أَلَا تَدْعُو لَنَا ؟ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ ، فَيُجْعَلُ فِيهَا ، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ وَعَظْمِهِ ، فَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ ، وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ ، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ " .
خباب بن ارت روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی انہیں اپنے دین سے نہیں روک سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم! اس اسلام کا کام مکمل ہو گا اور ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہو گا اور بکریوں پر سوا بھیڑئیے کے خوف کے (اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہو گا) لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں خباب بن الارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اپنی تکلیف بیان کی، جب آپ صلى الله عليه وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد اور دعا کیوں نہیں فرماتے؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پہلے پچھلی امتوں کے سخت حالات بیان کیے کہ اہل ایمان کو آرا سے چیرا گیا، لوہے کے کنگھوں سے تکلیف دی گئی، مگر یہ سب انہیں دین سے نہ روک سکا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ دین مکمل ہو گا، یہاں تک کہ سفر میں امن ہو گا، لیکن تم جلدی کرتے ہو۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ آزمائش کے وقت صبر، امید اور دین پر ثابت قدمی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کے راستے میں آزمائش آ سکتی ہے۔
- سابق اہل ایمان نے سخت تکلیف کے باوجود دین نہ چھوڑا۔
- مشکل وقت میں جلد بازی کے بجائے صبر اور اللہ پر اعتماد چاہیے۔
