صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۲ - عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے کی سنگینی
عثمان رضی اللہ عنہ کے واقعے پر سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا بیان
صحیح بخاری : ۶۹۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۴۲
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، سَمِعْتُ قَيْسًا ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّ عُمَرَ مُوثِقِي عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَلَوِ انْقَضَّ أُحُدٌ مِمَّا فَعَلْتُمْ بِعُثْمَانَ ، كَانَ مَحْقُوقًا أَنْ يَنْقَضَّ " .
سعید بن زید روایت:
میں نے اپنے آپ کو اس حال میں پایا کہ اسلام لانے کی وجہ سے (مکہ معظمہ میں) عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے باندھ دیا تھا اور اب جو کچھ تم نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہے اس پر اگر احد پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے تو اسے ایسا ہی ہونا چاہئے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۲ کا خلاصہ
اس روایت میں سعید بن زید رضی اللہ عنہ اپنا ایک سابقہ حال بیان کرتے ہیں کہ اسلام لانے کی وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں باندھ دیا تھا۔ پھر وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیے گئے معاملے پر شدید رنج کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر احد پہاڑ اس عمل کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے تو یہ بعید نہیں۔ اس متن میں اصل بات صحابہ کرام کے مقام، اسلام کی ابتدائی آزمائش، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے کی سنگینی ہے۔ روایت کا انداز جذباتی ہے، مگر مقصد یہ بتانا ہے کہ صحابہ کے بارے میں بےاحتیاطی اور ظلم معمولی بات نہیں۔ دین کی تاریخ میں ایسے معاملات کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام کی ابتدا میں بعض صحابہ نے سخت حالات برداشت کیے۔
- عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے کو سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے بہت سنگین سمجھا۔
- صحابہ کرام کے بارے میں زبان اور رویے میں احتیاط ضروری ہے۔
