صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۱ - ایمان کی مٹھاس پانے کے تین اعمال

ایمان کی مٹھاس کی حدیث: تین نشانیاں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۴۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ الطَّائِفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین خصوصیتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں گی وہ ایمان کی شیرینی پا لے گا اول یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے سب سے زیادہ عزیز ہوں۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی شخص سے محبت صرف اللہ ہی کے لیے کرے تیسرے یہ کہ اسے کفر کی طرف لوٹ کر جانا اتنا ناگوار ہو جیسے آگ میں پھینک دیا جانا۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۱ کا خلاصہ

یہ حدیث ایمان کی مٹھاس کے بارے میں صاف اور مختصر تعلیم دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کی شیرینی پا لے گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ کسی انسان سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے کرے۔ تیسری بات یہ ہے کہ کفر کی طرف لوٹنا اسے اتنا ناپسند ہو جیسے آگ میں پھینکا جانا ناپسند ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ایمان کو صرف زبان کا دعویٰ نہیں رکھا گیا، بلکہ محبت، نفرت اور دل کی پسند کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان دل کی سمت بدل دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی محبت ایمان کی بڑی علامت ہے۔
  • کسی سے محبت کا معیار اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔
  • کفر کی طرف واپسی سے شدید ناپسندیدگی ایمان کی حفاظت میں مدد دیتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں