صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۰ - نماز میں کمزور مسلمانوں کے لیے دعا
نماز میں دعا: کمزور مسلمانوں کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا
صحیح بخاری : ۶۹۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۴۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ : اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَابْعَثْ عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا کرتے تھے کہ اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ، سلمہ بن ہشام اور ولید بن الولید (رضی اللہ عنہم) کو نجات دے۔ اے اللہ بےبس مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ قبیلہ مضر کے لوگوں کو سختی کے ساتھ پیس ڈال اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آئی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نماز میں دعا کرتے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے عیاش بن ابی ربیعہ، سلمہ بن ہشام اور ولید بن الولید رضی اللہ عنہم کے لیے نجات کی دعا کی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے عام طور پر بےبس مسلمانوں کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے۔ اسی دعا میں قبیلہ مضر کے لیے سختی اور یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی کی دعا بھی آئی ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نماز میں مظلوم اور بےبس مسلمانوں کے لیے دعا کی گئی۔ دعا صرف اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ مشکل میں پھنسے اہل ایمان کے لیے بھی ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں محتاج اور بےبس مومنوں کے لیے دعا کی جا سکتی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مخصوص افراد کے نام لے کر دعا فرمائی۔
- مسلمان کو دوسروں کی تکلیف پر دعا سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔
