صحیح مسلم حدیث ۴۵۶۰ - غنیمت کے حصے اور ایک اونٹ نفل
مال غنیمت میں حصہ اور نفل: نجد کے سریہ کی روایت
صحیح مسلم : ۴۵۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۶۰
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ ، فَخَرَجْتُ فِيهَا ، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا ، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا " ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا، وہ بھی اس میں شامل ہوئے۔ وہاں اونٹ اور بکریاں غنیمت میں حاصل ہوئیں۔ پھر ان کے حصے بارہ بارہ اونٹ تک پہنچے، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہر ایک کو ایک ایک اونٹ نفل کے طور پر عطا فرمایا۔ اس روایت میں غنیمت کے حصے اور اضافی نفل دونوں کا ذکر ہے۔ بات صاف ہے کہ پہلے حصہ بیان ہوا، پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف سے ایک اونٹ نفل ملا۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مال کے معاملے میں تقسیم واضح ہونی چاہیے۔ جس کا جو حصہ ہو وہ بیان کیا جائے، اور جو انعام ہو اسے الگ سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غنیمت میں اونٹ اور بکریاں حاصل ہونے کا ذکر ہے۔
- ہر شخص کا حصہ بارہ اونٹ تک پہنچا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک ایک اونٹ نفل کے طور پر دیا۔
- حصہ اور نفل کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔
