صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۹ - نجد کے سریہ میں نفل کا بیان

نجد کے سریہ میں نفل: حصہ کے علاوہ انعام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵۹

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ وَفِيهِمْ ابْنُ عُمَرَ ، وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا ، فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۹ کا خلاصہ

اس روایت میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا، جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کے حصے بارہ اونٹ تک پہنچے اور اس کے علاوہ ایک اونٹ نفل دیا گیا۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے تبدیل نہیں کیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نفل اور غنیمت کی تقسیم ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ تقسیم کے بعد اضافی انعام الگ بتایا گیا، یعنی حصہ اپنی جگہ اور نفل اپنی جگہ۔ اس طرح حدیث ہمیں مالی معاملات میں وضاحت اور نظم کا انداز دکھاتی ہے۔ سریہ نجد کی حدیث پڑھتے ہوئے اصل بات یہی ہے کہ جو تقسیم بیان ہوئی، نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے برقرار رکھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نجد کے سریہ میں غنیمت کے حصے مقرر ہوئے۔
  • حصے کے علاوہ ایک اونٹ نفل کے طور پر ملا۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس تقسیم کو تبدیل نہیں فرمایا۔
  • مالی تقسیم میں وضاحت اور نظم ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں