صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۸ - مال غنیمت
مال غنیمت کی تقسیم: نجد کے لشکر کا حصہ
صحیح بخاری : ۴۳۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۳۸
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ فَكُنْتُ فِيهَا ، فَبَلَغَتْ سِهَامُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا ، فَرَجَعْنَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تھا، میں بھی اس میں شریک تھا۔ اس میں ہمارا حصہ (مال غنیمت میں) بارہ بارہ اونٹ پڑے اور ایک ایک اونٹ ہمیں اور فالتو دیا گیا۔ اس طرح ہم تیرہ تیرہ اونٹ ساتھ لے کر واپس آئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مال غنیمت کی تقسیم ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا، اور وہ خود بھی اس لشکر میں شریک تھے۔ اس لشکر کے لوگوں کو مال غنیمت میں بارہ بارہ اونٹ ملے، پھر ایک ایک اونٹ مزید بطور نفل دیا گیا۔ اس طرح وہ تیرہ تیرہ اونٹ لے کر واپس آئے۔ روایت مختصر ہے، مگر اس میں ایک واضح بات ہے کہ جہادی لشکر کے حصے مقرر ہوئے اور اضافی عطیہ بھی دیا گیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غنیمت کی تقسیم باقاعدہ انداز میں ہوتی تھی، اور کبھی مقرر حصے کے علاوہ بھی کچھ دیا جاتا تھا۔ یہاں اصل بات تقسیم کے واقعے کا بیان ہے، نہ کہ کسی عمومی حکم کی تفصیل۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لشکر کے لوگوں کو مقرر حصہ دیا گیا۔
- بارہ اونٹ کے ساتھ ایک اضافی اونٹ بھی ملا۔
- حدیث میں نجد کی طرف بھیجے گئے لشکر کا مختصر واقعہ بیان ہوا ہے۔
