صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۷ - وفاداری انصار
حنین میں انصار کی وفاداری: ہم آپ کے ساتھ ہیں
صحیح بخاری : ۴۳۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۳۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِنَعَمِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمِنَ الطُّلَقَاءِ ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ ، فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا ، الْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " ، قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " ، قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ ، فَنَزَلَ ، فَقَالَ : " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ ، فَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ غَنَائِمَ كَثِيرَةً ، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : إِذَا كَانَتْ شَدِيدَةٌ ، فَنَحْنُ نُدْعَى وَيُعْطَى الْغَنِيمَةَ غَيْرُنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " فَسَكَتُوا ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " ، وَقَالَ هِشَامٌ : قُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ وَأَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ ، قَالَ : وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ ؟ .
انس بن مالک روایت:
جب حنین کا دن ہوا تو قبیلہ ہوازن اور غطفان اپنے مویشی اور بال بچوں کو ساتھ لے کر جنگ کے لیے نکلے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تھا۔ ان میں کچھ لوگ وہ بھی تھے، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا، پھر ان سب نے پیٹھ پھیر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا رہ گئے۔اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ پکارا دونوں پکار ایک دوسرے سے الگ الگ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں طرف متوجہ ہو کر پکارا: اے انصاریو! انہوں نے جواب دیا ہم حاضر ہیں: یا رسول اللہ! آپ کو بشارت ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں، لڑنے کو تیار ہیں۔ پھر آپ بائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی، اے انصاریو! انہوں نے ادھر سے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں، یا رسول اللہ! بشارت ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک سفید خچر پر سوار تھے پھر آپ اتر گئے اور فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔انجام کار کافروں کو ہار ہوئی اور اس لڑائی میں بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مہاجرین میں اور قریشیوں میں تقسیم کر دیا (جنہیں فتح مکہ کے موقع پر احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا) انصار کو ان میں سے کچھ نہیں عطا فرمایا۔ انصار (کے بعض نوجوانوں) نے کہا کہ جب سخت وقت آتا ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیمت دوسروں کو تقسیم کر دی جاتی ہے۔یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے انصار کو ایک خیمہ میں جمع کیا اور فرمایا اے انصاریو! کیا وہ بات صحیح ہے جو تمہارے بارے میں مجھے معلوم ہوئی ہے؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصاریو! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ کو اپنے گھر لے جاؤ۔ انصاریوں نے عرض کیا ہم اسی پر خوش ہیں۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی گھاٹی میں چلیں تو میں انصار ہی کی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا۔ اس پر ہشام نے پوچھا: اے ابوحمزہ! کیا آپ وہاں موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غائب ہی کب ہوتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع غزوہ حنین، انصار کی وفاداری اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے محبت ہے۔ ہوازن، غطفان اور دوسرے لوگ اپنے مال اور بچوں کے ساتھ جنگ کے لیے آئے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ دس ہزار لشکر تھا اور کچھ نئے آزاد کیے گئے لوگ بھی تھے۔ پھر لوگ پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ آپ صلى الله عليه وسلم اکیلے رہ گئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دائیں اور بائیں طرف انصار کو پکارا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں، یا رسول اللہ، آپ کو بشارت ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم سفید خچر سے اترے اور فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ بعد میں غنیمت مہاجرین اور طلقاء میں تقسیم ہوئی، انصار کو نہ ملی، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں اپنی صحبت کی قدر یاد دلائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت وقت میں انصار نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی عبدیت اور رسالت کو واضح فرمایا۔
- انصار کے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ساتھ دنیاوی غنیمت سے بڑھ کر بتایا گیا۔
