صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۳ - حنین اور انصار

غزوہ حنین میں انصار کی وفاداری اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا پیار

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۳۳

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ الْتَقَى هَوَازِنُ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ ، وَالطُّلَقَاءُ فَأَدْبَرُوا ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " ، قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَعْدَيْكَ ، لَبَّيْكَ نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ ، فَأَعْطَى الطُّلَقَاءَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا ، فَقَالُوا : فَدَعَاهُمْ ، فَأَدْخَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ ، فَقَالَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَاخْتَرْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .

انس روایت:

غزوہ حنین میں جب قبیلہ ہوازن سے جنگ شروع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار فوج تھی۔ قریش کے وہ لوگ بھی ساتھ تھے جنہیں فتح مکہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تھا پھر سب نے پیٹھ پھیر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: اے انصاریو! انہوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں، یا رسول اللہ! آپ کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہم حاضر ہیں۔ ہم آپ کے سامنے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر مشرکین کی ہار ہو گئی۔ جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد چھوڑ دیا تھا اور مہاجرین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا لیکن انصار کو کچھ نہیں دیا۔اس پر انصار رضی اللہ عنہم نے اپنے غم کا اظہار کیا تو آپ نے انہیں بلایا اور ایک خیمہ میں جمع کیا پھر فرمایا کہ تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ بکری اور اونٹ اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں اور انصار دوسری گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع غزوہ حنین، انصار کی وفاداری اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی محبت ہے۔ روایت کے مطابق حنین میں ہوازن سے مقابلہ ہوا، نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ دس ہزار لوگ تھے، پھر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے انصار کو پکارا تو انہوں نے لبیک کہا اور عرض کیا کہ ہم آپ کے سامنے حاضر ہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اور مشرکین کو شکست ہوئی۔ بعد میں غنیمت کچھ لوگوں کو دی گئی، انصار کو نہ دی گئی، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں جمع کیا اور فرمایا کہ کیا تم راضی نہیں کہ لوگ بکری اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو لے جاؤ۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے انصار کی گھاٹی کو اختیار کرنے کی بات فرمائی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سخت وقت میں انصار نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی پکار پر لبیک کہا۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی عبدیت اور رسالت کا اعلان فرمایا۔
  • انصار کے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ساتھ غنیمت سے بڑھ کر قرار دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں