صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۲ - دنیا سے بے رغبتی
دنیا نہیں، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ساتھ: انصار کے لیے بڑی خوشی
صحیح بخاری : ۴۳۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۳۲
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ ، فَغَضِبَتْ الْأَنْصَارُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ " .
انس بن مالک روایت:
فتح مکہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں (حنین کی) غنیمت کی تقسیم کر دی۔ انصار رضی اللہ عنہم اس سے رنجیدہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ۔ انصار نے عرض کیا کہ ہم اس پر خوش ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ دوسرے کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں رہوں گا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع دنیا کے مقابلے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ساتھ اور انصار کی فضیلت ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے زمانے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے غنیمت قریش میں تقسیم فرمائی۔ انصار رضی اللہ عنہم کو اس پر رنج ہوا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دوسرے لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ انصار نے جواب دیا کہ ہم خوش ہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں رہوں گا۔ یہ حدیث دل کو سیدھا کرتی ہے کہ اصل عزت دنیا کے مال میں نہیں، نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تعلق میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیاوی مال ہر وقت اصل کامیابی نہیں ہوتا۔
- انصار نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ کو مال سے بڑھ کر پسند کیا۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انصار سے اپنی خاص محبت کا اظہار فرمایا۔
