صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۶ - تقسیم اور صبر

حنین کی تقسیم پر اعتراض اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا صبر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۳۶

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا ، أَعْطَى الْأَقْرَعَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَأَعْطَى نَاسًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا أُرِيدَ بِهَذِهِ الْقِسْمَةِ وَجْهُ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : لَأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو بہت بہت جانور دئیے۔ چنانچہ اقرع بن حابس کو جن کا دل بہلانا منظور تھا، سو اونٹ دئیے۔ عیینہ بن حصن فزاری کو بھی اتنے ہی دئیے اور اسی طرح دوسرے اشراف عرب کو دیا۔ اس پر ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی رضا کا کوئی خیال نہیں کیا گیا۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) میں نے کہا کہ میں اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کروں گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ سنا تو فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ انہیں اس سے بھی زیادہ دکھ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع صبر، تقسیم غنیمت اور دل جوئی ہے۔ حنین کے موقع پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے چند لوگوں کو زیادہ جانور عطا فرمائے، جیسے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن کو سو سو اونٹ دیے۔ روایت کے مطابق ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی رضا کا خیال نہیں کیا گیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ یہ بات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بتائیں۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ دکھ دیا گیا تھا مگر انہوں نے صبر کیا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے سخت بات کے جواب میں بدلہ نہیں لیا، بلکہ صبر کی مثال دی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کچھ لوگوں کو دل جوئی کے لیے زیادہ عطا فرمایا۔
  • سخت اعتراض سن کر آپ صلى الله عليه وسلم نے صبر کا راستہ اختیار فرمایا۔
  • دوسروں کی نیت پر الزام لگانے سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں