صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۹ - احتیاط اور براءت
بنی جذیمہ کا واقعہ: جان کے معاملے میں احتیاط
صحیح بخاری : ۴۳۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۳۹
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي نُعَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ ، يَقُولُوا : أَسْلَمْنَا ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا ، فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ مِنْهُمْ وَيَأْسِرُ ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي ، وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَاهُ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، فَقَالَ : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن انہیں «أسلمنا.» ”ہم اسلام لائے“ کہنا نہیں آتا تھا، اس کے بجائے وہ «صبأنا.، صبأنا.» ”ہم بےدین ہو گئے، یعنی اپنے آبائی دین سے ہٹ گئے“ کہنے لگے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنا اور قید کرنا شروع کر دیا اور پھر ہم میں سے ہر شخص کو اس کا قیدی اس کی حفاظت کے لیے دے دیا پھر جب ایک دن خالد رضی اللہ عنہ نے ہم سب کو حکم دیا کہ ہم اپنے قیدیوں کو قتل کر دیں۔میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا آخر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے صورت حال بیان کیا تو آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ اے اللہ! میں اس فعل سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں، جو خالد نے کیا۔ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع احتیاط، جان کی حرمت اور غلط فہمی سے بچنا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔ انہوں نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ وہ لوگ صحیح لفظ اسلمنا نہ کہہ سکے اور صبأنا صبأنا کہنے لگے۔ اس کے بعد خالد رضی اللہ عنہ نے کچھ کو قتل اور کچھ کو قید کرنا شروع کیا۔ پھر قیدیوں کے قتل کا حکم دیا، مگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ کی قسم، میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا، اور میرے ساتھی بھی اپنے قیدی کو قتل نہیں کریں گے۔ جب یہ واقعہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ اٹھا کر دو مرتبہ فرمایا کہ اے اللہ، میں اس کام سے بیزار ہوں جو خالد نے کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جان کے معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قیدی کو قتل کرنے سے انکار کیا۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس فعل سے اللہ کے حضور براءت ظاہر فرمائی۔
