صحیح بخاری حدیث ۴۳۴۰ - اطاعت کی حد

اطاعت صرف نیکی میں: آگ میں کودنے کے حکم والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۴۰

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَاسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ ، فَغَضِبَ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ أَمَرَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا ، فَجَمَعُوا ، فَقَالَ : أَوْقِدُوا نَارًا ، فَأَوْقَدُوهَا ، فَقَالَ : ادْخُلُوهَا ، فَهَمُّوا ، وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يُمْسِكُ بَعْضًا ، وَيَقُولُونَ : فَرَرْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ ، فَمَا زَالُوا حَتَّى خَمَدَتِ النَّارُ ، فَسَكَنَ غَضَبُهُ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : "لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .

علی روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر لشکر روانہ کیا اور اس کا امیر ایک انصاری صحابی (عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ) کو بنایا اور لشکریوں کو حکم دیا کہ سب اپنے امیر کی اطاعت کریں پھر امیر کسی وجہ سے غصہ ہو گئے اور اپنے فوجیوں سے پوچھا کہ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں فرمایا ہے؟ سب نے کہا کہ ہاں فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا پھر تم سب لکڑیاں جمع کرو۔ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں تو امیر نے حکم دیا کہ اس میں آگ لگاؤ اور انہوں نے آگ لگا دی۔ اب انہوں نے حکم دیا کہ سب اس میں کود جاؤ۔فوجی کود جانا ہی چاہتے تھے کہ انہیں میں سے بعض نے بعض کو روکا اور کہا کہ ہم تو اس آگ ہی کے خوف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ہیں! ان باتوں میں وقت گزر گیا اور آگ بھی بجھ گئی۔ اس کے بعد امیر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ جب اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود جاتے تو پھر قیامت تک اس میں سے نہ نکلتے۔ اطاعت کا حکم صرف نیک کاموں کے لیے ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع اطاعت کی حد ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور ایک انصاری صحابی کو اس کا امیر بنایا۔ لشکریوں کو حکم تھا کہ اپنے امیر کی اطاعت کریں۔ کسی بات پر امیر کو غصہ آیا، انہوں نے لکڑیاں جمع کروائیں، آگ جلوانے کو کہا، پھر حکم دیا کہ اس میں کود جاؤ۔ کچھ لوگ کودنے ہی والے تھے، مگر بعض نے بعض کو روکا اور کہا کہ ہم تو آگ ہی کے خوف سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف آئے ہیں۔ باتوں میں وقت گزر گیا، آگ بجھ گئی اور امیر کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو خبر ملی تو فرمایا کہ اگر وہ اس میں کود جاتے تو قیامت تک نہ نکلتے، اطاعت صرف معروف میں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امیر کی اطاعت کا حکم ہے، مگر نیکی کے دائرے میں۔
  • غصے میں دیا گیا ہر حکم ماننا لازم نہیں ہوتا۔
  • صحابہ نے آگ سے بچنے کی وجہ کو سمجھا اور رک گئے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں