صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۵ - اطاعت صرف نیکی میں ہے
اطاعت صرف معروف میں: آگ والے واقعے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۴۵
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ ، فَغَضِبَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : قَدْ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَمَا جَمَعْتُمْ حَطَبًا وَأَوْقَدْتُمْ نَارًا ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِيهَا ، فَجَمَعُوا حَطَبًا فَأَوْقَدُوا نَارًا ، فَلَمَّا هَمُّوا بِالدُّخُولِ فَقَامَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا تَبِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارًا مِنَ النَّارِ أَفَنَدْخُلُهَا ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ ، إِذْ خَمَدَتِ النَّارُ وَسَكَنَ غَضَبُهُ ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا أَبَدًا ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .
علی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور دیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑی جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔لوگوں نے لکڑی جمع کی اور آگ جلائی، جب کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو لوگ دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے کے لیے کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں۔ اسی دوران میں آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے۔ اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں اطاعت کی حد ایک واقعے کے ذریعے سمجھائی گئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور ان پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا، اور لوگوں کو اس کی اطاعت کا حکم دیا۔ امیر غصہ ہوا اور لوگوں کو لکڑی جمع کر کے آگ جلانے اور اس میں کودنے کا حکم دیا۔ لوگ کودنے کے قریب تھے، مگر ایک دوسرے کو دیکھ کر رک گئے اور کہا کہ ہم نے نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی آگ سے بچنے کے لیے کی تھی، پھر اس میں کیسے داخل ہوں؟ بعد میں جب یہ بات نبی صلى الله عليه وسلم تک پہنچی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو کبھی نہ نکلتے، اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔ یہ حدیث امیر کی اطاعت، معصیت سے بچنے، اور معروف میں اطاعت کا صاف اصول بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امیر کی اطاعت کا حکم تھا، مگر آگ میں کودنے کا حکم درست نہ تھا۔
- صحابہ نے سوچا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی آگ سے بچنے کے لیے ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اصول بتایا کہ اطاعت صرف معروف میں ہے۔
