صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۸ - سریہ نجد اور مال غنیمت کی تقسیم
سریہ نجد کی حدیث: غنیمت کی تقسیم اور نفل
صحیح مسلم : ۴۵۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵۸
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ ، قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً ، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا، میں بھی اس میں تھا نجد کی طرف، وہاں بہت سے اونٹ لوٹ میں آئے تو ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آئے اور ایک ایک اونٹ انعام میں ملا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا اور وہ خود بھی اس میں شامل تھے۔ وہاں بہت سے اونٹ غنیمت میں آئے۔ پھر ہر ایک کے حصے میں بارہ یا گیارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ نفل کے طور پر دیا گیا۔ اس روایت کا موضوع غنیمت کی تقسیم اور نفل ہے۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حصہ مقرر ہوا، پھر اس کے علاوہ ایک اضافی اونٹ دیا گیا۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ واقعہ سادہ انداز میں بیان ہوا ہے۔ مال غنیمت کی حدیث ہمیں نظم، تقسیم اور طے شدہ حصے کی پابندی کا سبق دیتی ہے۔ آدمی کو اپنے حصے پر راضی رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سریہ نجد میں غنیمت کی تقسیم باقاعدہ ہوئی۔
- ہر شخص کو مقرر حصہ ملا۔
- حصے کے علاوہ ایک اونٹ نفل کے طور پر دیا گیا۔
- مالی معاملات میں نظم اور تقسیم کا خیال رکھا گیا۔
