صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۷ - تلوار کا واقعہ اور سورہ انفال
سورہ انفال اور تلوار کا واقعہ: حکم کو مقدم رکھنا
صحیح مسلم : ۴۵۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ أَصَبْتُ سَيْفًا ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَفِّلْنِيهِ ؟ ، فَقَالَ : ضَعْهُ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ : نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ : ضَعْهُ ، فَقَامَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَفِّلْنِيهِ أَأُجْعَلُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ ؟ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ " ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 .
مصعب بن سعد روایت:
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا اپنے باپ سے، کہا کہ میرے بارے میں چار آیتیں اتریں، ایک بار ایک تلوار مجھے ملی لوٹ میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی، میں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ مجھے عنایت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کو رکھ دے۔“ پھر میں کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رکھ دے اس کو جہاں سے تو نے لیا ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تلوار مجھے دے دیجیئے کیا میں اس شخص کی طرح رہوں گا جو نادار ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رکھ دے اس کو جہاں سے تو نے لیا ہے۔“تب یہ آیت اتری «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ» (۸-الأنفال:۱)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ تفصیل سے آیا ہے۔ انہیں لوٹ میں ایک تلوار ملی، وہ اسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس لائے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ مجھے عطا فرما دیجیے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ سعد رضی اللہ عنہ نے بار بار درخواست کی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے وہیں رکھ دو جہاں سے لیا ہے۔ پھر آیت نازل ہوئی: لوگ آپ سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ انفال اللہ اور رسول کے لیے ہیں۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ذاتی کارکردگی یا خواہش کے باوجود مال غنیمت کا فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں ہو گا۔ انفال کی حدیث ہمیں نظم، اطاعت اور امانت داری کا واضح سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذاتی خواہش کے باوجود حکم کو ماننا ضروری ہے۔
- مال غنیمت میں خود سے قبضہ رکھنا درست نہیں سمجھایا گیا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے تلوار واپس رکھنے کا حکم دیا۔
- سورہ انفال کی آیت اسی واقعے کے بعد نازل ہوئی۔
