صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۶ - انفال اللہ اور رسول کے لیے ہیں
انفال کی حدیث: مال غنیمت میں اپنی مرضی نہیں
صحیح مسلم : ۴۵۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵۶
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَخَذَ أَبِي مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَبْ لِي هَذَا " ، فَأَبَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 .
مصعب بن سعد روایت:
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا اپنے باپ سے، کہا کہ میں نے خمس میں سے ایک تلوار لی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا، یہ تلوار مجھ کو بخش دیجیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیاتب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ» (۸-الأنفال:۱) ”یعنی پوچھتے ہیں تجھ سے لوٹ کے مالوں کو تو کہہ دے لوٹ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے خمس میں سے ایک تلوار لی، پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یہ تلوار مجھے بخش دیجیے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے انکار فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: لوگ آپ سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ انفال اللہ اور رسول کے لیے ہیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مال غنیمت یا انفال میں ہر شخص اپنی پسند سے حصہ نہیں لے سکتا۔ فیصلہ اللہ اور رسول کے حکم کے تابع ہے۔ انفال کی حدیث ہمیں امانت، نظم اور حکم کی پابندی سکھاتی ہے۔ آدمی کو اپنی خواہش کے بجائے شرعی حکم کو مقدم رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انفال کا معاملہ ذاتی خواہش پر نہیں چھوڑا گیا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے تلوار دینے سے انکار فرمایا۔
- آیت میں انفال کو اللہ اور رسول کے لیے بتایا گیا۔
- مال کے معاملے میں حکم کی پابندی ضروری ہے۔
