حدیث ۴۵۵۵

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵۵

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ : لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا ، وَلَمَّا يَبْنِ وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا ، وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَادَهَا ، قَالَ : فَغَزَا فَأَدْنَى لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ ، فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ ، فَقَالَ : فِيكُمْ غُلُولٌ ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ ، فَبَايَعُوهُ ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ ، فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ ، فَبَايَعَتْهُ ، قَالَ : فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ ، قَالَ : فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کیا پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر نے تو اپنے لوگوں سے کہا: میرے ساتھ وہ مرد نہ چلے جس نے نکاح کیا اور وہ چاہتا ہو کہ اپنی عورت سے صحبت کرے اور ہنوز اس نے صحبت نہیں کی اور نہ وہ شخص جس نے مکان بنایا ہو اور ہنوز اس کی چھت بلند نہ کی ہو۔ اور نہ وہ شخص جس نے بکریاں یا گابھن اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے جننے کا امیدوار ہو (اس لیے کہ ان لوگوں کا دل ان چیزوں میں لگا رہے گا اور اطمینان سے جہاد نہ کر سکیں گے) پھر اس پیغمبر علیہ السلام نے جہاد کیا تو عصر کے وقت یا عصر کے قریب اس گاؤں کے پاس پہنچا (جہاں جہاد کرنا تھا) تو پیغمبر علیہ السلام نے سورج سے کہا: تو بھی تابعدار ہے اور میں بھی تابعدار ہوں، یا اللہ اس کو روک دے تھوڑی دیر میرے اوپر (تاکہ ہفتہ کی رات نہ آ جائے کیونکہ ہفتہ کو لڑنا حرام تھا اور یہ لڑائی جمعہ کے دن ہوئی تھی) پھر سورج رک گیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح دی ان کو پھر لوگوں نے اکھٹا کیا جو لوٹا تھا اور انگارے (آسمان سے آئے) اس کے کھانے کو لیکن اس نے نہ کھایا۔ پیغمبر نے کہا کہ تم میں سے کسی نے چوری کی ہے (جبھی تو یہ نذر قبول نہ ہوئی) تو تم میں سے ہر گروہ کا ایک آدمی بیعت کرے مجھ سے۔ پھر بیعت کی سب نے۔ ایک شخص کا ہاتھ جب پیغمبر علیہ السلام کے ہاتھ سے لگا تو پیغمبر علیہ السلام نے کہا: تم لوگوں میں چوری معلوم ہوتی ہے تو تمہارا قبیلہ مجھ سے بیعت کرے، پھر اس قبیلے نے بیعت کی تو دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ پیغمبر علیہ السلام کے ہاتھ سے لگا تو پیغمبر علیہ السلام نے کہا تم نے چوری کی ہے، پھر انہوں نے بیل کے سر کے برابر سونا نکال کر دیا وہ بھی اس مال میں رکھا گیا (جو جلانے کے لیے رکھا تھا) زمین پر اور انگارے آئے اس کے کھانے کو اور کھا گئے اس کو اور ہم سے پہلے کسی کے لیے لوٹ درست نہیں ہوئی اور ہم کو درست ہوئی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ضعیفی اور عاجزی دیکھی تو حلال کر دیا ہمارے لیے لوٹ کو۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں