صحیح بخاری حدیث ۳۱۳۴ - سریہ نجد اور غنیمت کی تقسیم
غنیمت کی تقسیم کی حدیث: سریہ نجد اور اضافی انعام
صحیح بخاری : ۳۱۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۳۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرًا فَكَانَتْ سِهَامُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی لشکر کے ساتھ تھے۔ غنیمت کے طور پر اونٹوں کی ایک بڑی تعداد اس لشکر کو ملی۔ اس لیے اس کے ہر سپاہی کو حصہ میں بھی بارہ بارہ گیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے اور ایک ایک اونٹ اور انعام میں ملا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۳۴ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک لشکر کا ذکر ہے جو نجد کی طرف بھیجا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس لشکر میں تھے۔ اس سریہ کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے۔ روایت میں آیا کہ ہر سپاہی کے حصے میں گیارہ یا بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ مزید انعام میں بھی دیا گیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع غنیمت کی تقسیم اور نفل یعنی اضافی انعام ہے۔ متن مختصر ہے، اس لیے اس سے صرف اتنا ہی لیا جائے گا کہ لشکر کو غنیمت ملی، اس کے حصے مقرر ہوئے، اور عام حصہ کے علاوہ ایک اضافی اونٹ بھی دیا گیا۔ یہ حدیث مال غنیمت کی تقسیم، سریہ نجد، مجاہدین کے حصہ اور اضافی عطیے کے بارے میں سرچ کرنے والوں کے لیے مفید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غنیمت کی تقسیم میں ہر شریک کے حصے کا ذکر واضح طور پر آیا ہے۔
- عام حصہ کے علاوہ ایک ایک اونٹ اضافی انعام میں دیا گیا۔
- روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی شرکت بھی بیان ہوئی ہے۔
