صحیح بخاری حدیث ۳۱۳۵ - غنیمت کے عام حصہ کے علاوہ نفل

نفل غنیمت کی حدیث: عام حصہ کے علاوہ خاص عطیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۳۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قِسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض مہموں کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ (خمس وغیرہ میں سے) اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض مہموں میں بھیجے گئے لوگوں کو غنیمت کے عام حصے کے علاوہ اپنے طور پر بھی عطا فرماتے تھے۔ یہاں بنیادی لفظ نفل ہے، یعنی عام تقسیم کے سوا خاص انعام۔ روایت بہت مختصر ہے، اس لیے اس سے لمبے احکام یا تفصیلات نہیں نکالنی چاہییں۔ صاف بات یہ ہے کہ بعض سرایا میں شریک لوگوں کو عام لشکر کے حصہ کے علاوہ خصوصی طور پر کچھ دیا جاتا تھا۔ یہ خاص عطیہ کس موقع پر اور کس مقدار میں ہو، اس کی تفصیل اس متن میں نہیں آئی۔ اس لیے اس حدیث کا استعمال کرتے وقت مرکزی نکتہ یہی رہے گا کہ مال غنیمت کی تقسیم میں عام حصہ بھی تھا، اور کچھ حالات میں خاص انعام بھی دیا جاتا تھا۔ یہ غنیمت، نفل، سریہ اور جہاد کے مالی نظم سے متعلق روایت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عام لشکر کے حصہ کے علاوہ بعض لوگوں کو خاص انعام دیا گیا۔
  • حدیث میں نفل کا ذکر ہے، مگر مقدار یا ہر موقع کی تفصیل نہیں دی گئی۔
  • مال غنیمت کی تقسیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظام کے تحت ہوتی تھی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں