صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۸ - نحوست کا بیان
نحوست کی حدیث: گھوڑا، عورت اور گھر کا ذکر
صحیح بخاری : ۲۸۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۵۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نحوست ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے: گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔ یہ روایت مختصر ہے، اس لیے اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔ حدیث میں صرف تین چیزوں کا ذکر آیا ہے، مگر اس سے اپنی طرف سے سخت یا عام حکم نہیں نکالنا چاہیے۔ اسی باب میں ایک دوسری روایت میں الفاظ ہیں کہ اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور مکان میں ہوتی۔ علمائے کرام کے مطابق ایسی روایات کو دوسرے نصوص کے ساتھ سمجھا جاتا ہے، تاکہ بدگمانی اور توہم پرستی سے بچا جا سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے مختصر الفاظ کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔
- نحوست کے مسئلے میں اپنی طرف سے سخت دعوے نہیں کرنے چاہییں۔
- متعلقہ روایات کو ملا کر بات سمجھنا زیادہ محفوظ ہے۔
- بدگمانی اور بے بنیاد توہمات سے بچنا چاہیے۔
